15 دسمبر کو مسلسل پانچویں ہفتے پیلی واسکٹ والے مظاہرین نے فرانس کی سڑکوں کا رخ کیا، جسے تحریک کی ’’پانچویں قسط‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 10 دسمبر کو میکرون کی طرف سے اعلان کی جانے والی مراعات، پورے ہفتے جاری رہنے والے طالب علموں کے مظاہروں اور CGT ٹریڈ یونین کی جانب سے ایک روزہ ملک گیر احتجاج کے بعد ہوا۔ پانچ ہفتوں بعد تحریک کس مرحلے پر پہنچی ہے اور اس کا تناظر کیا ہے؟

[Source]

وزارت داخلہ کی جانب سے دیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتے پورے فرانس میں تقریباً 66 ہزار لوگوں نے مظاہرے کیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تعداد پچھلے ہفتے کے مقابلے میں آدھی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کس طرح سرکاری اعداد و شمار میں سڑکوں پر موجود لوگوں کی حقیقی تعداد کو کم کر کے بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات سچ ہے کہ لوگوں کی تعداد میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

پانچویں قسط

اعدادوشمار میں ایک اہم حقیقت کو چھپایا گیا ہے، اور وہ حقیقت یہ ہے کہ مظاہروں کو بہ زور طاقت روکنے کے لیے پولیس کا بھاری جبر استعمال کیا گیا۔ پیرس میں ٹرین کے درجنوں سٹیشن ’’احتیاطاً‘‘ بند کر دیے گئے، جس کا مقصد لوگوں کو مظاہرے میں پہنچنے سے روکنا تھا۔ پولیس نے دارالحکومت کے اہم مقامات پر ناکے لگا رکھے تھے جہاں مظاہرین کی تلاشی لی جاتی تھی اور کچھ موقعوں پر انہیں ’’احتیاطاً‘‘ گرفتار بھی کر لیا جاتا تھا (جو تعداد کے لحاظ سے پچھلے ہفتے کی نسبت کافی کم ہوا)۔

پیرس میں اوپرا گرانیے، جو ہفتے کے دن ہونے والے احتجاج کے مقامات میں سے ایک تھا، پر اکٹھے ہونے والے لوگوں کو پولیس نے چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک محصور کر کے رکھا گیا اور پھر انہیں منتشر ہونے کا کہا گیا (وہ ایسا کیسے کرتے؟)، پھر تھوڑی دیر بعد دنگوں سے نمٹنے والی پولیس نے ان پر حملہ کر دیا

پچھلے ہفتے بھی بالکل ایسا ہی ہوا جب گیر سینٹ لزار کے مقام پر سینکڑوں مظاہرین کو محصور کر لیا گیا اور وہ بہت مشکل کے ساتھ پولیس سے بچ کر نکلے

پیلی واسکٹ والوں کے مظاہرے روکنے کے لیے آنسو گیس کے کنستر، پانی کے حملوں، بکتر بند گاڑیوں اور دنگوں سے نمٹنے والی پولیس کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پورا ہفتہ ایک منظم مہم کے تحت سٹراسبرگ میں ہونے والے حملے (جس میں ایک آدمی نے گولیاں مارکر بہت سے لوگوں کو قتل اور زخمی کر دیا تھا) کا بہانہ بنا کر لوگوں کو مظاہرے کرنے سے منع کیا جاتا رہا۔

بلاشبہ سٹراسبرگ کا حملہ آور پولیس کے ہاتھوں مارا جاچکا ہے، لیکن پھر بھی ’’سکیورٹی کے خدشات‘‘ موجود تھے جس کی وجہ سے حکومتی اہلکار اور میڈیا پیلی واسکٹ والوں کو احتجاج نہ کرنے اور گھروں میں رہنے کی تاکید کرتے رہے۔ کچھ شہروں میں تو انتظامیہ نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر ہر قسم کے اکٹھ پر ہی پابندی لگا دی۔

صوبے کے کچھ شہروں میں پر امن مظاہرے ہوئے لیکن زیادہ تر جگہوں پر بعد میں ان پر پولیس نے آنسو گیس کے حملے کرنا شروع کر دیے۔

حکومت نے فرانس کے لوگوں کا احتجاج کرنے کا حق ہی چھین لیا ہے۔ اور پھر فرانسیسی حکومت اور میڈیا سرخیوں میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’تحریک کا زور ٹوٹ رہا ہے‘‘۔ اس سب کے باوجود ہزاروں لوگوں نے پورے ملک میں مظاہرے کیے: مارسائی، ٹولوز، بورڈو، نانتیز، للی، دیجون، لی ہاور اور درجنوں دیگر شہروں اور قصبوں میں۔

مظاہروں کے ساتھ ساتھ سڑکیں بند کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور موٹروے پر محصول کے بنا سفر کے لیے بھی مظاہرے کیے گئے۔

وہ ہفتہ جو میکرون کی بے دلی سے دی گئی مراعات کے ساتھ شروع ہوا تھا، اس میں ہمیں سینکڑوں سکولوں کے طالب علم بھی احتجاج کرتے نظر آئے۔ اس احتجاج کو انہوں نے ’’کالے منگل‘‘ (Black Tuesday) کا نام دیا۔ پیرس کے علاقے میں انہیں اساتذہ یونینز کی حمایت بھی حاصل تھی۔

اور پھر جمعرات کو یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے ملک گیر مظاہرے کیے، انہوں نے کئی جگہوں پر اپنے اکٹھ منعقد کیے جن میں پیلی واسکٹ والوں کی حمایت میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے لیے ہڑتال بھی کی۔

سی جی ٹی

14 دسمبر، جمعہ کے دن، CGT نے ملکی سطح پر کئی مطالبات کے حق میں ہڑتالیں کرنے کا اعلان کیا، جن میں تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے کے مطالبات بھی شامل تھے۔ کچھ ہڑتالیں ہوئیں، جن میں بندرگاہوں اور توانائی کے شعبے کی ہڑتالیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان کا دورانیہ بہت کم تھا۔ میکرون حکومت پر محنت کشوں کے طرف سے حملے کا آغاز کرنے کے لیے کم از کم 24 گھنٹوں کی ایک عام ہڑتال درکار ہے۔ CGT کی قیادت نے ہڑتالوں کے دن کا اعلان غم و غصے کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیا، کیونکہ یونین کے بہت سے کارکنان جنرل سیکرٹری مارٹینیز کے موقف پر برہم تھے، جس نے پیلی واسکٹ والوں کی تحریک میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا۔

کچھ علاقوں میں جہاں مقامی CGT واضح طور پر ایک مشترکہ تحریک کی حمایت میں سامنے آئی، وہاں بڑے بڑے مظاہرے دیکھنے کو ملے (مارسائی، ٹولوز، وغیرہ) جن میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس بات سے ایک وسیع تحریک کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ CGT کے رہنماؤں کا موجودہ موقف کس قدر ناکافی ہے۔

مارٹینیز نے جہاں ’’ہر جگہ ہڑتالوں‘‘ کی بات کی، وہیں اس نے جان بوجھ کر ’’عام ہڑتال‘‘ کے لفظ سے پرہیز کیا۔ ’’احتجاج کے دن‘‘ کا اعلان کیا گیا جس کا پیلی واسکٹ والوں کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا اور پورے ملک میں CGT کی قوتوں کو متحرک کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جن میں CGT کی افسر شاہانہ قیادت کافی مہارت رکھتی ہے: جب نیچے سے دباؤ بڑھے تو ملک گیر احتجاج کے دن کا اعلان کردیا جائے، کچھ انقلابی مگر مبہم زبان استعمال کی جائے، لوگوں کو منظم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ ’’دیکھا، عام ہڑتال نہیں ہوسکتی، اس کے حالات ہی موجود نہیں ہیں۔‘‘

ان تمام عوامل، تحریک کی طوالت، ٹریڈ یونین رہنماؤں کے غیر سنجیدہ رویے، ریاست کے جبر اور حکومت کی جانب سے دی گئی مراعات کے اثر (ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ حکومت نے تیل پر لگایا جانے والا ٹیکس واپس لے لیا ہے، جس کی وجہ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی) کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ ہفتے کو ہونے والے مظاہرے پچھلے ہفتے کی نسبت ایک قدم پیچھے گئے ہیں۔ تحریک میں شامل بہت سے افراد خود سے سوال کرنے لگے ہیں کہ پیلی واسکٹ والوں کا تناظر کیا ہے اور وہ کہاں جا رہے ہیں؟ کسی واضح قیادت کی عدم موجودگی اور سی جی ٹی کے رہنماؤں کے منہ پھر لینے کے بعد یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ تحریک کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

ابھی اس موقع پر بھی تحریک کی زبردست حمایت موجود ہے۔ گو کہ پیلی واسکٹ والوں نے اپنے عروج پر بھی پچھلی ٹریڈ یونین کی لڑائیوں کی نسبت کم افراد کو متحرک کیا، مگر عوام میں ان کی حمایت مختلف رائے شماریوں میں ہمیشہ 65 سے 75 فیصد کے درمیان رہی اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ تحریک کے جاری رہنے کی حمایت کرنے والے لوگوں میں واضح کمی آئی ہے، جو پہلے 70 فیصد سے زیادہ تھے پر اب 50 فیصد سے تھوڑا ہی زیادہ ہیں، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ احتجاج اس عدم اطمینان کے ساتھ جڑے ہیں جو سرمایہ داری کے بحران کا تمام بوجھ محنت کشوں پر ڈالنے کی وجہ سے ہے، جبکہ امراء کہ دولت کے انباروں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

میکرون کمزور اور عوام کا غصہ مضبوط

اب CGT نے 18 دسمبر کو ایک اور ’’احتجاج کے دن‘‘ کا اعلان کر دیا ہے اور پیلی واسکٹ والے ہفتے کے روز چھٹی قسط کی تیاریوں میں ہیں۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ مختلف عوامل (تھکن، مراعات، جبر، قیادت کا فقدان) مل کر تحریک کے موجودہ مرحلے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھی لوگوں کا غصہ اور بے چینی وہیں موجود ہے۔

جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ میکرون کی حکومت، جسے ایک مضبوط ’’لبرل‘‘ طاقت بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، جو ’’فرانسیسی معاشرے کو درکار ضروری اصلاحات‘‘ ( حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے) نافذ کرنے کے قابل تھی، ان مظاہروں کی وجہ سے فیصلہ کن طور پر کمزور ہوئی ہے، اور اس کا اعتماد پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ IFOP کے مطابق 16 دسمبر تک میکرون کی مقبولیت بمشکل 23 فیصد ہے اور 76 فیصد لوگ اس کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں۔ اس کے علاوہ میکرون کے مخالف لوگوں کی ناپسندیدگی میں شدت آئی ہے، جو لوگ ’’شدید غیر مطمئن‘‘ ہیں ان کی تعداد ایک ماہ میں 39 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ اس کا موازنہ اگر مئی 2017ء کو میکرون کے صدر بننے کے فوراً بعد سے کیا جائے تو تب اس کی مقبولیت 62 فیصد تھی۔

پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے نہ صرف اشرافیہ کی میکرون حکومت کو للکارا ہے بلکہ مبہم اور متذبذب انداز میں فرانسیسی معاشرے کے نظام سے متعلق شدید بے چینی کو بھی اپنے ساتھ جوڑا ہے، اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اصل غیر جمہوری چہرے کو بھی سب کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

اور یہ جذبات محض فرانس تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بلجیم، ہالینڈ، کینیڈا، پولینڈ، اسرائیل، تیونس، جمہوریہ وسطی افریقہ، برکینا فاسو وغیرہ میں بھی اسی طرز پر بے شمار مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ مصری حکومت تو اس طرح کے مظاہروں سے اس حد تک خوف زدہ ہو گئی کہ اس نے پیلی واسکٹ پر ہی پابندی لگا دی۔

ان عالمی مظاہروں کی مانگیں اور سیاسی کردار ملے جلے نظر آئے (جس میں دائیں اور بائیں بازو، دونوں کی مثالیں ہیں)۔ بہرحال یہ حقیقت کہ پیلی واسکٹ کو پوری دنیا میں پذیرائی ملی اور یہ بغاوت کی ایک عالمی علامت بن گئی ہے، بتاتی ہے کہ جو تضادات فرانس میں اس تحریک کا باعث بنے وہ عالمی سطح پر پائے جاتے ہیں۔ پوری دنیا کے محنت کشوں کی جانب سے پیلی واسکٹ والوں کے لیے یکجہتی کی امیدافزاء مثالیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی ٹریڈ یونین فیڈریشن نے فرانس میں احتجاج کرنے والوں کے لیے یکجہتی کا پیغام بھیجا۔

محنت کشوں اور نوجوانوں کی ایک دانا پرت نے اس تحریک سے اہم سیاسی اسباق اخذ کیے ہوں گے، شاید ان میں سب سے بنیادی سبق یہ ہے کہ اپنے مطالبات منوانے کا واحد راستہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر آ کر انقلابی جدوجہد کرنا ہے۔ دوسرے نتائج اخذ کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر یہ کہ ایک عوامی تحریک کے لیے قومی سطح پر جمہوری اور قابلِ احتساب قیادت درکار ہوتی ہے، جو ایک ایسے منشور سے لیس ہو جو سرمایہ دارانہ نظام کا ایک واضح متبادل پیش کر سکے۔