عالمی مارکسی رجحان(IMT)، امریکی سامراج کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ کُو کی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتہائی دیدہ دلیری سے وینزویلا میں صدر مادورو کی حکومت کو گرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بولیوارین انقلاب پر پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے حملوں کی ایک تازہ ترین قسط ہے، ان حملوں میں اس کُو سے پہلے فوجی کُو،پیراملٹری دخل اندازیاں، پابندیاں، سفارتی دباؤ، دنگا فساد اور قتل کی کوششیں شامل ہیں۔

[Source]

واشنگٹن میں ملاقاتوں اور وائٹ ہاؤس سے ملنے والی ہدایت کے بعد خواں وائڈو نے 23 جنوری کو کراکس میں ہونے والی ریلی میں خود کے صدر ہونے کا دعویٰ کردیا۔ اس دعوی کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہونے کے باوجود اسے(وائڈو کو) فوری طور پر ٹرمپ، بولسنارو، دائیک،ماکری اور الماگرو کی جانب سے صدر تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد یورپی یونین کی 19 ریاستوں نے بھی اسے صدر تسلیم کر لیا۔ بعد ازاں ان سب نے وینزویلا کی فوج سے اپیل کی کہ وہ اپنی وفاداری نئے ’’صدر‘‘ کے سپرد کر دے۔ اس کے بعد امریکہ نے وینزویلا کی تیل کی کمپنی PDVSA پر پابندیوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا اور امریکہ میں موجود اس کے سات ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دئیے۔ امریکہ کی ہدایت پر بینک آف انگلینڈ نے 1.2 ارب ڈالر مالیت کا وینزویلا کا سونا بھی ضبط کر لیا۔ان تمام تر اقدامات کا مقصد وینزویلا کی معیشت کا گلا گھونٹتے ہوئے اسے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکی سامراج کی جانب سے یہ تمام تر سفاک اقدامات جمہوریت اور ’’انسانی امداد‘‘ کے لبادے میں کیے جارہے ہیں۔ ہمیں مکمل طور پر واضح ہونا چاہیے کہ سامراج نے عراق میں اپنی چڑھائی کی وجوہات کے متعلق بھی جھوٹ بولا تھا، لیبیا کے متعلق بھی ان سامراجیوں نے جھوٹ بولا ،سامراج اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے جھوٹے جواز گھڑتا آیا ہے۔ وہ امریکی حکومت، جو مہاجرین کو باہر دھکیلنے کیلئے دیواریں بناتی پھر رہی ہے، جو(مہاجرین) کسی طرح سے اندر آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں انھیں آہنی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے،بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر دیتی ہے، کو وینزویلا کے مہاجرین کی حالت زار کی بھی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ایلیٹ ابرامس کو وینزویلا میں ’’جمہوریت کی بحالی‘‘ کے اس آپریشن کا نگراں مقرر کیا ہے۔ اس کا انچارج مقرر کیا جانا ہی ہمیں وہ سب بتا دیتا ہے جو ہم جاننا چاہتے ہیں۔ ابرامس نے نکاراگوا میں ردِ انقلابی کونٹراس کے کیلئے فنڈنگ کا انتظام کیا، ایل سلواڈور اور گوئٹے مالا میں 1980 ءکی دہائی میں ڈیتھ سکواڈ کی پشت پناہی کی۔

اس ’’کُو‘‘ کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔ ایک بولیوارین انقلاب کو کچلنا، یہ وہ مقصد ہے جس کی کوشش واشنگٹن پچھلے بیس سالوں سے کر رہا ہے۔ دوسرا، اس کُو کے بعد امریکہ کو وینزویلا کی تیل اور معدنیات کی دولت پر کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا۔ اور تیسرا، یہ پورے براعظم کے مزدوروں اور مزارعوں کو بھی ایک تنبیہ ہوگی اور یہ کُو کیوبا کے انقلاب کیلئے بھی ایک مستقل خطرہ بن جائے گا۔

اگر یہ کُو کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے وینزویلا اور خطے کے محنت کشوں کیلئے تباہ کن اثرات ہوں گے ۔ وائڈو پہلے ہی اپنے پروگرام کا اعلان کر چکا ہے،جس میں قومیائی گئی بجلی، سٹیل، مواصلات اور سیمنٹ وغیرہ کی کمپنیوں کی نجکاری اور تیل کی صنعت کو غیر ملکی ملٹی نیشنلز کیلئے آسان شرائط پر کھولنا، بڑے پیمانے پر پبلک سیکٹر ورکرز کی برطرفیاں،تمام سوشل پروگرامز کا خاتمہ ، صحت اور تعلیم کے شعبہ کی نجکاری اور ایک ’’متوازن بجٹ‘‘ شامل ہیں۔یہ سماجی اور معاشی حملوں کا ایک کھلا پروگرام ہے۔

اس پروگرام کو لاگو کرنے کیلئے وائڈو کو لازمی طور پر مزدوروں اور مزارعوں کی مزاحمت کو کچلنے کیلئے جمہوری آزادی کا گھلا گھونٹنا پڑے گا، ٹریڈ یونین اور کمیونٹی تنظیموں پر حملے ہوں گے اوران کی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا جائے گا۔ رجعتی حزب مخالف کے جتھوں کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم یہ بھی توقع کر سکتے ہیں کہ یہ شاویز کے حامیوں پر جسمانی حملے بھی کر سکتے ہیں۔

تمام سوشلسٹوں اور سامراج مخالف جمہوریت پسندوں کا یہ فریضہ ہے کے اپنے تمام تر قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کُو کی مخالفت کریں۔اب ہچکچاہٹ اور نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔اس انتہائی سامراجی حملے کے سامنے اب اگرمگر کی نہ تو کوئی گنجائش ہے نہ کوئی امکان۔

حالات کے اس نہج تک پہنچنے میں مادورو اور PSUV بیوروکریسی کی لڑکھراہٹ اور ان کی سامراج اور وینزویلا کے حکمران طبقہ کے ساتھ سمجھوتے کی کوششوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔آج ان پالیسیوں کا تسلسل تباہ کن نتائج دے گا۔

اس کُو کی کوشش کو انقلابی محنت کشوں اور مزارعوں کو حرکت میں لاتے ہوئے اور بینکرز،سرمایہ دار اور بڑے زمینداروں کی شکل میں موجود سامراج کے مقامی ایجنٹوں سے سیاسی لڑائی لڑتے ہوئے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔عوامی ملیشیا کو مضبوط اور مسلح کرتے ہوئے انھیں مزدوروں کے محلوں فیکٹریوں اور مزارعوں کے حلقوں میں منظم کیا جانا چاہیے۔

وائڈو کھلے عام ملٹری کُو کے لیے اکسا رہا ہے۔ اس نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے اثاثے منجمد کرنے کے عمل کی تائید کی ہے، اور اب وہ براہ راست امریکی فوجی مہم جوئی کے لیے اپیل کر رہا ہے۔ وہ وینزویلا کے عوام سے غداری کررہا ہے ۔اسے گرفتار کیا جانا چاہیے اور اس پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے اور اور اس کُو کی منصوبہ بندی کرنے والی نیشنل اسمبلی کو بند کردینا چاہیے۔

اس کُو میں ملوث ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیاں ضبط کرلی جائیں۔کُو میں ملوث اشرافیہ کی جائیدادوں کو ضبط کر لیا جائے۔ زمینیں مزارعوں کے حوالے کی جائیں۔ تمام ذرائع پیداوار کو ورکرز اور مزارعوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے،تاکہ موجودہ بحران سے نمٹا جاسکے اور وینزویلا کے عوام کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

عالمی مارکسی رجحان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کےHands Off Venezuela کی کیمپین نہ صرف جاری رکھے گا بلکہ اس کو مزید تیز کرتے ہوئے پوری قوت سے دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریکوں میں لے کر جائے گا۔ ہم تمام بائیں بازو کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور نوجوانوں کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیمپین کا حصہ بنیں۔

ہینڈز آف وینزویلا!

امریکی کُو مردہ باد، سامراجی جنگ مردہ باد!

سامراجیوں اور اشرافیہ کی جائیداد ضبط کرو!

دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ !