سوڈان میں عبوری فوجی کونسل (TMC)اور انقلابی تحریک کے نمائندوں کے مابین مذاکرات کا عمل معطل ہو چکا ہے۔ اول تو یہ ہونے ہی نہیں چاہئیں تھے۔ لیکن اب وقت ہے کہ سوڈانی محنت کش طبقہ جارحانہ طرز عمل اپنائے۔

ایسٹر بغاوت کے 103سال مکمل ہونے کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لیے 2001ء میں لکھا گیا یہ آرٹیکل شائع کر رہے ہیں۔ آج ایسٹر بغاوت کو ایک صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے مگر اس بغاوت کی بنیاد میں کار فرما تضادات آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ بریگزٹ اور برطانوی سرما یہ داری کا بحران ان تضادات کو ایک بار پھر سطح پر لے آیا ہے۔ دیگر قومی تحریکوں کی طرح آئرلینڈ کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔ جیمز کونولی اور ایسٹر بغاوت کے واقعات میں موجودہ نسل کے لیے سیکھنے کے لیے بہت سے اسباق ہیں۔

جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیے گئے پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے سرگرم رہنما راول اسد کی درخواست ضمانت کر رد کرتے ہوئے ملتان کی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ آج کینٹ پولیس نے تاخیری حربے استعمال کرنے کے بعد بالآخر دوپہر 2 بجے کے بعد راول اسد کو عدالت میں پیش کیا اور 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ راول کا استقبال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے کارکنان، وکلا اور صحافی احاطۂ عدالت میں موجود تھے۔ راول کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا اپنے دلائل میں یہ واضح کیا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ دن دیہاڑے پولیس کی جانب سے کیے گئے ایک قتل کے خلاف انصاف مانگنا کیسے جرم بن گیا۔ اسی کیس میں نامزد باقی تمام سیاسی کارکنا ن کو یہی عدالت ضمانت قبل از گرفتاری دے چکی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود انصاف اور قانون کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے راول کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سب’’قانونی‘‘ کاروائی کا مقصد انقلابی جدوجہد کرنے والے طالبعلم کو انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔

عالمی مارکسی رجحان(IMT)، امریکی سامراج کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ کُو کی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتہائی دیدہ دلیری سے وینزویلا میں صدر مادورو کی حکومت کو گرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بولیوارین انقلاب پر پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے حملوں کی ایک تازہ ترین قسط ہے، ان حملوں میں اس کُو سے پہلے فوجی کُو،پیراملٹری دخل اندازیاں، پابندیاں، سفارتی دباؤ، دنگا فساد اور قتل کی کوششیں شامل ہیں۔

یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ حادثے انسانوں کی زندگی اور تاریخ، دونوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے دوران بہت سے حادثے اور غیر معمولی اتفاقات دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی حالات کی اتنی غیر متوقع کڑیاں ملتے ہوئے نہیں دیکھیں جن کا میں یہاں ذکر کرنے جا رہا ہوں۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا وقت سر پر آن پہنچا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جوں جوں یہ وقت گھٹتا جا رہا ہے برطانوی اور یورپی حکمران و سرمایہ دار طبقے کے سروں پر خطروں کی گھنٹیاں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ دو سال کے طویل وقت میں بھی ٹوری حکومت اور یورپی یونین بریگزٹ سے متعلق کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور یورپی یونین نے مشکل سے جو ڈیل کی، جب وہ برطانوی ہاؤس آف کامنز میں پہنچی تو ممبر ان پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے عمل میں اس ڈیل کے پرخچے اڑا دیئے۔ اور ابھی تک بار بار کی ووٹنگ کے باوجود برطانوی حکمران بریگزٹ سے متعلق کوئی دوسرا حل پیش نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ برطانوی حکمران طبقے اور حکمران جماعت میں موجود شدید پھوٹ ہے۔ 15جنوری کو پارلیمنٹ میں اس پر کی گئی ووٹنگ میں تھریسا مے کی ڈیل کو 230ووٹوں کی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان میں خود ٹوری پارٹی کے 118ممبران ایسے ہیں جنہوں نے خود اپنی ہی وزیراعظم کی ڈیل کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ تاریخ میں کسی بھی معاملے پر کسی بھی وزیراعظم کی سب سے بڑی شکست تھی جس میں اس کی اپنی پارٹی کے ایک بڑے حصے نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا۔

>جیسا کہ ہم پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ وینزویلا میں سامراجیوں اور ان کے کاسہ لیس لیما کارٹل کی سرکردگی میں کُو جاری ہے جب کہ اپوزیشن میں ان کے کٹھ پتلی اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ 23جنوری کو جاری کُو اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا جب ممبر پارلیمان گوائڈو نے جمہوریہ کے صدر کے بطور حلف اٹھایا۔

15 دسمبر کو مسلسل پانچویں ہفتے پیلی واسکٹ والے مظاہرین نے فرانس کی سڑکوں کا رخ کیا، جسے تحریک کی ’’پانچویں قسط‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 10 دسمبر کو میکرون کی طرف سے اعلان کی جانے والی مراعات، پورے ہفتے جاری رہنے والے طالب علموں کے مظاہروں اور CGT ٹریڈ یونین کی جانب سے ایک روزہ ملک گیر احتجاج کے بعد ہوا۔ پانچ ہفتوں بعد تحریک کس مرحلے پر پہنچی ہے اور اس کا تناظر کیا ہے؟

15دسمبر 2018ء بروز ہفتہ، بختیار لیبر ہال لاہور میں پروگریسو یوتھ الائنس کے انتہائی شاندار مرکزی کنونشن کا انعقاد ہوا۔کنونشن میں ملک بھر سے طلبہ و طالبات اور بیروزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجودشرکت کی۔کنونشن کا بنیادی مطالبہ ہر سطح پر مفت تعلیم کی فراہمی اور طلبہ یونین کی بحالی تھا۔ اس کے علاوہ دیگر مطالبات کے حق میں بھی قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت شامل تھی۔کنونشن کی مقرر ہ جگہ ایوان اقبال کا مرکزی ہال تھی، مگر لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام دشمن حربے استعمال کیے گئے اور مفت تعلیم اور طلبہ یونین کی بحالی کے نعروں پر ہونے والے اس کنونشن کو ناکام کرنے کی گھناؤنی کوشش کی گئی۔ اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے کنونشن سے صرف ایک دن قبل ایوان اقبال میں پروگرام کرنے کیلئے اپنا ہی دیا گیااین او سی منسوخ کر دیا گیا۔ وجہ پوچھنے پر یہ کہا گیا کہ ’’اوپر‘‘ سے حکم آیا ہے کہ یہ پروگرام نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ہم تفصیلات بتانے کے مجاز نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ہیں۔ اس پر کنونشن کے منتظمین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں تحریری شکل میں وضاحت دی جائے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا اور منتظمین کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کرتے ہوئے انہیں سخت کاروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔

فرانس کی سماجی اور سیاسی صورتحال خوفناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دہلیز پار بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کو آگے دھکیلنے میں کیا چیز فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟

ریولوشن (IMT کا فرانسیسی سیکشن) کے طالب علم ممبران نے مونٹ پیلیئے یونیورسٹی میں ہونے والے عام اکٹھ میں مندرجہ ذیل قراردار منظور کی۔ یہ ٹولوز میں ایک طلبہ کے اکٹھ میں بھی پیش کی گئی(جس پر آج رائے شماری ہو گی) اور اسے نانٹیر اور لیون میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اس میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی حمایت کی گئی ہے اور میکرون کی قابل نفرت حکومت کو گرانے کے لیے ہڑتالوں کی مہم چلانے کا کہا گیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے ییلے یونز (پیلی واسکٹ والوں کے) مظاہرے ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے انقلابی جذبات کی وجہ سے، جن سے اب حکومت کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے، میکرون نے اپنا متکبر رویہ تبدیل کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو ’’معطل‘‘ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔ یہ پسپائی ہفتے کے آخر میں سینکڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان گلیوں میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد دیکھنے میں آئی ہے جن کے نتیجے میں صرف پیرس میں ہی 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور کم از کم ایک جان گئی۔